ابنا: جنرل عبداللہ عراقی نے تہران میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دہشت گرد گروہ پژاک نے اسلامی جمہوریہ ایران کی تمام شرائط قبول کر لی ہیں کہا کہ اس دہشت گرد گروہ نے پریشانی کے عالم میں شکست کے طور پر اپنے ہاتھ اوپر اٹھا کر جاسوسان پہاڑی سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گروہ کو امریکی اور صہیونی مدد و حمایت فراہم کرتے ہیں اور اس کے دہشت گردوں کو تربیت دیتے ہیں۔ جب اس گروہ نے دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں تو ان کے سب سے اہم ہتھیار بندوقیں تھیں لیکن حال ہی میں ان کے پاس جدید مارٹر توپیں اور طیارہ شکن توپیں آ گئيں اور یہ اسرائیلیوں کی تربیت سے جدید ترین طریقوں سے دھماکے کرتے تھے۔ جنرل عبداللہ عراقی کے بقول اس گروہ کے خلاف حال ہی میں کی گئي کارروائي کے دوران اس کے ایک سو اسی سے زائد دہشت گرد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔...........
/169